وزیر اعظم کا چوتھا دورائے چترال ۔

 

وزیر اعظم کا چوتھا دورائے چترال ۔

جناب وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کا چوتھا دورائے چترال ۔ جب بھی وزیر اعظم صاحب چترال کے دورے پر آ ئے ، کھبی بھی توفیق نہیں ہوا کہ وادی چترال کے خوبصورت پہاڑوں کے دامن میں صدیوں سے رہنے والے قدیم باشندے اپنے منفرد رسم ورواج کی وجہ سے پورے کائینات میںاپنے ایک الگ مقام رکھتے ہیں ۔ اور پاکستان کی پہچان بنی ہوئی ہیں۔ لیکن بادشاہ سلامت نے کھبی بھی اس چھوٹی سی قبیلے کی حوصلہ افزائی کرنا گوارہ نہیں سمجھا ۔ سرکاری ٹی وی پر دیکھنے والے وادی کلاش میں بیٹھے ناظرین سوچتے رہ گئے۔ لیکن جلسہ گاہ میں موجود کلاش کمیو نیٹی بھی حیرات میں مبتلا رہے۔luke for article

کچھ سال پہلے مجھے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد جانے کا موقع ملا،جب کیفٹیریا سے با ہر نکلا تو میں نے ایک خوبصورت کلاشا بچی کی تصویر دیوار پر لٹکتی ہوئی پایا ۔ ان دنوں اسلام آباد کے شاہراوں میں بھی کلاشا خواتین کی تصاویری جھلکیاں دیکھنے کو ملتی تھیں۔ جب میٹرو بس چلی تب ہی سیکیٹریٹ میٹرو سٹیشن پر بھی کلاش خواتین کو بھی بھر پور انداز میں دیوار وں کی زینت بنائی گئی۔

ا ٓخر وہ کونسی بات ہے جس نے وزیر اعظم کو کلاش کمیونٹی کی بات کرنے سے روکتا ہے ےا بادشاہ سلامت کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اگرہم عمران اور نواز شریف کا اس حوالے موازنہ کریںتو خان صاحب نے ہمیشہ کلاشا کمیونٹی کو اپنے تقاریروں کا حصہ بناتا رہا اس وقت بھی جب وہ ہسپتال میں چارپائی پر لیٹے ہوئے پاکستان تحرےک انصاف کے کارکنان سے ویڈیو لنک کے زریعے خطاب کر رہا تھاتب بھی وہ اس چھوٹے سے قبیلے کو نہیں بھولا۔

کلاشا کمیو نٹی دور حا ضر میں گوناگوں مسائل سے دو چار ہیں اور بادشاہ سلامت کی چوتھا دورائے چترال خاصا اہمیت کا حامل تھاکہ وہ سڑکیں اور دیگر ترقےاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ اس منفرد ثقافت کےلے بھی کچھ کرنے کو سوچتا ۔کلاشاکمیو نیٹی جلسہ گاہ میں موجود بادشاہ سلامت سے ملنے کی آس رکھے ہوئے وہاں سے واپس آنا پڑا۔

جناب ذولفقار علی بھٹو ہی وہ اعظیم شخصیت تھے جس نے کلاشا کمیونٹی کو دنیا بھر میںاجاگر کیا، اس وقت جب کوئی جانتا بھی نہیں تھا،اس نے اس چھو ٹی سی کمیونٹی کو ہمت وحوصلہ دےا، پہچان دےا اور ان کے دل جیت لیے۔ اس کے بعد ان لوگوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

گذشتہ سال قدرتی آفات سے وادی کلاش بری طرح متاثر ہوئے اور تین مہنے تک چترال ٹاﺅن سے منقطع رہے۔ صوبے میں برسر اقتدار حکمران جماعت پاکستان تحرےک انصاف، مسائل سے دو چار آفت زدہ علاقوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر توجہ دینے کے بجائے صوبائی حکومت اپنی تمام تر وسائل دھرنوں اور غیر ضروری سرگرمیوں میںضائع کر دئیے۔خان صاحب نے اس چھوٹی سی قبیلے کو امید کی ایک نئی کرن جگائی تو تھی لیکن جونہی وقت گزرتا گیاوہ اپنی مثبت کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ۔گذشتہ سال صوبائی حکومت کے اعلی قیادت کے ہمراہ خان صا حب بھی چترال میں موجود رہے لیکن ہندوکش کے سر سبزوشاداب پہاڑوں کے دامن میں واقع ان تین کلاش وادیوں کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے۔

صوبائی اور مرکزی حکومت کے پاس اگر چاہے تو وقت اب بھی موجود ہے کہ اس منفرد ثقافت کو محدومیت سے بچایا جا سکتاہے اور اس کے دیرپافوائد بھی ملیں گے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*