ایدھی کا جنازہ ۔۔۔ جو میں نے دیکھا


نور شمس الدّین

رات کو ذہن بنا کے سویا کہ صبح ایدھی کے نماز جنازہ میں شرکت کرنا ہے ساتھ ہی یہ حدشہ بھی تھا کہ راستوں پر رش ہوگا ٹریفک جام ہوگی عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہوگا اور خلق خدا دھاڑیں مار کر روتے ہوۓ اس عظیم ہستی کو خراج عقیدت پیش کرنے نیشنل اسٹڈیم کیطرف روان دواں ہونگے ۔۔۔ بحرحال فیصلہ کرلیا کہ مجھے شرکت کرنا ہے پولیس کی منت سماجت کرونگا آرمی کے پاؤں پکڑونگا رینجر سے التماس کرونگا کہ اس جنازے میں شرکت کرنے والا میں واحد انسان ہوں جو کیٔ ہزار کلومیٹر دور چترال کا باسی ہوں۔  سو صبح اٹھا تیار ہوا اور رکشہ والے سے مدعا بیاں کیا۔۔۔ ایک جگہ پہنچا تو راستہ بند پایا بولا آپ پیدل جاسکتے ہیں اور یوں بلا روک ٹوک دس منٹ کی پیدل مسافت طے کرنے کے بعد میں نیشنل اسٹڈیم کے اندر تھا۔۔۔
edhiپولیس کی رکاوٹین تھی نہ آرمی چیک پوسٹس۔۔۔ رینجر نے روکا نہ عوام کے سمندر میں گم ہوگیا
یقیں آیا کہ ایدھی مرگیا ہے اور تابوت میں بالعموم پاکستانی عوام کا اور بالخصوص کراچی والوں کا  جنازہ رکھا گیا ہے۔۔۔
وہ عوام جو گلوکاروں کے جنازے پر جوق درجوق شرکت کررہی ہوتی تھی آج اپنے کاروبار میں مصروف تھے۔۔۔ وہ عوام جو سیاستدانوں کے جنازوں میں نعرے لگارہے ہوتے تھے آج انھیں سانپ سونگھ گیا تھا۔۔۔ وہ عوام جو مسلکی بنیادوں اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوکر خراج تحسین پیش کررہی ہوتی تھی آج خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا ۔۔۔ وہ لبرلز جو موم بتی جلاکر اپنا بھڑاس نکال رہے ہوتے تھے اج فیس بک اور ٹویٔٹر پر ایک ٹریند لگا کر کسی اور کے پیچھے لگے ہوۓ تھے ۔۔۔ اور مذہب پرست جو امریکہ مردہ باد اور انسانیت کے بلند باگ نعرے لگا یا کرتے تھے وہ آج بھی اپنا چورن بیجھ رہے تھے۔۔۔۔ اور یہ جو چول میڈیا کہ رہا ہے کہ ہر انکھ اشکبار تھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔ اس اسٹڈیم میں بمشکل دس سے پندرہ ہزار لوگ تھے ۔۔۔
پتہ ہے اپ کو ایدھی نے اپ تک ۱۳ ہزار دو سو بے اولاد جوڑوں کو لاواث بچے تھما چکا ہے اور اج صرف وہی خاندان جنازے میں شرکت کرتے تو لوگوں کی تعداد ۳۹ ہزار ہوجاتی ۔۔۔ تو کیا سمجھے ایدھی کے ساتھ وہ ۱۳ ہزار احسان فراموش خاندان آج مرگیے کہ نہیں؟
پتہ ہے ایدھی باباۓ خدمت کیسا بنا ہے؟ کپڑوں کا کا روبار کرنے والا ایک نوجوان انسان اس وقت اپنی پُرعیش زندگی چھوڑ کر فقیر بن گیا جب اس کے سامنے ایک زخمی انسان پڑا تھا اور لوگ اس زخمی کو ہسپٹال لے جانے کے بجاۓ تماشا دیکھ رہے تھے۔ تو کیا آج وہ سارے زخمی نہیں مرگۓ جنھیں ایدھی ایمبولیسز نے زندگی دی تھی؟
پتہ ہے ۶ ہزار سے ذایٔد ایسے جنازوں کو ایدھی نے غسل دیا ہے جن کی بدبو ان کے اپنے سگے برداشت نہیں کررہے تھے کیا ان لاشوں کے وارثوں کا جنازہ نہیں اٹھا آج؟
زرا یوٹیوپ پر پاکستان کے چند شخصیات کے جنازوں کا ویڈیو تو دیکھیں اور پھر ایدھی کے جنازے سے موازنہ کریں اپ کو پتہ چلے گا کہ یہ ملک انسانوں کا ہے ہی نہیں۔۔۔ بلکہ یہ سیاستدانوں کا ملک ہے۔ یہ مذہبی منافرت پھیلانے والوں کا ملک ہے۔ یہ ننگے لبرلز کا ملک ہے۔ یہ جنونیوں کا ملک ہے۔ یہ دہشت گردوں کا ملک ہے۔ یہ حکومت پر ناجایٔز قبضہ کرنے والے عاصبوں کا ملک ہے۔ یہ پاگلوں کا ملک ہے۔ یہ خیالی پلاو پکانے والوں کا ملک ہے اوریہ۔۔۔ چھوڑیے صاحب ۔۔۔۔۔۔۔
آج مجھے یقیں ہوا کہ اس ملک کے لیے زرداری سے اچھا صدر، نواز شریف سے پاکیزہ وزیر اعظم ، ضیاالحق سے بہتر مرد مومن، پرویز رشید سے بہتر زباں دراز، رانا ثنااللہ سے اعلیٰ قانون دان، جنید جمشید اور عامر لیاقت سے ذیادہ نفیس اور پاکدامن مبلع، ملا منصور سے بہتر شھید اور مبشر لقمان سے ذیادہ باخبراور عیرجانبدار صحافی نہیں مل سکتا۔ اور ملنا بھی نہیں چاہیے۔۔۔
آج تک میں سوچ رہا تھا اللہ کا نام لیکر بناۓ گیے اس ملک کے باسیوں پر اللہ تعالی اپنا کرم کرکے اس کو امن، محبت، رواداری اور انصاف کا گہوارہ کیوں نہیں بنارہے ہیں لیکں آج یقین ہوا کہ اس چول عوام کو اللہ نے اِن کی اوقات سے بڑھ کر دی ہے یہ تو کسی بھی چیز کا مستحق نہیں۔۔۔۔
آج کے دن کویی بات حوصلہ افزا تھی تو وہ یہ تھی کہ اس جنازہ گاہ میں کسی لبرل، مذہبی، سنٹرل یا کنزرویٹیو سیاسی جماعت کاجھنڈہ نہیں تھا۔۔۔ پس ثابت ہوا کہ ایدھی انسان تھے۔۔۔
اُن ۱۵ ہزار لوگوں میں سے کسی کی جرات نہیں ہویی کہ نعرہ تکبیر یا نعرہ رسالتؐ کے سوا کویی اور نعرہ لگا سکے۔ پس ثابت ہوا کہ ایدھی صرف اللہ اور پیارے نبیؐ کا تھا۔۔۔
اس پورے پنڈال میں کویی مایی کا لعل اٹھ کر کسی اور کے خلاف نفرتوں سے بھری تقریر نہیں کرسکا۔ پس ثابت ہوا کہ ایدھی صرف محبتوں کے سفیر تھے۔۔۔
اس پورے مجمع میں کسی نے نہیں پوچھا کہ نماز پڑھانے والا پیش امام سنی ہے کہ شیعہ ، بریلوی ہے یا دیوبندی، الحدیث ہے یا کویی اور۔۔۔ ثابت ہوا کہ ایدھی صرف مسلمان تھے۔۔۔
اس مجمع میں سندھی خود کو مہاجر پر فوقیت نہیں دے رہاتھا۔۔ پنجابی پٹھان سے آگے نکل کی کوشش نہیں کررہا تھا، بلوچی بے بس نہیں تھا۔۔۔۔ پس ثابت ہوا کہ ایدھی صرف پاکستانی تھے۔۔۔
اور ہاں اگر اپ چاہتے ہیں کہ اپ کے جنازے میں لوگوں کا ہجوم ہو۔ تو سیاستدان بن جاییں۔۔۔ اگر دل میں خواہش ہے کہ لوگ پاگلوں کی طرف اپ کے ایک دیدار کے لیے ترس رہے ہو تو مذہب کا نام لیکر خواب بیجھنا شروع کریں۔ اگر اندر سے آواز آرہی ہے کہ اپ کے نام پر فلایی اور، ایرپورٹ اور پلیں بنیں تو منہ میں رام رام کریں اور بعل میں کلاشنکوف رکھیں۔ اگر چاہیں کہ نوجوان اپ کا گرویدہ بنے تو گلوکار بن جاییں اور راج کریں۔ اور اگر یہ سب نہیں چاہتے ہیں تو ایدھی بنیں۔۔۔
مگر اے اہلیاں کراچی آپ کے آج کے سلوک کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ آپ کویی دوسرا ایدھی پیدا کرسکیں گے البتہ  جنونی خود کش ، کرپٹ سیاستدان، احمق لکھاری، کراۓ کے قاتل اور فیس بکی دانشور پیدا کرنے کے حوالے سے اپ کی سرزمیں کافی زرخیز ہے ۔۔۔ اللہ اپ کا حامی و ناصر ہو۔۔۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*